المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ ، وَالْبَعِيرِ ، يُجْزِئُ عَنْ سَبْعَةٍ ؟ فَقَالَ : وَكَيْفَ ; أَوَلَهَا سَبْعَةُ أَنْفُسٍ ؟ قُلْتُ : إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [الَّذِينَ] بِالْكُوفَةِ أَفْتَوْنِي . فَقَالَ الْقَوْمُ : نَعَمْ قَدْ قَالَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا شَعَرْتُ " .
ابو بکر (ابن ابی شیبہ) نے بیان کیا، انہیں ابن نمیر نے مجالد سے، اور انہوں نے عامر رحمہ اللہ سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گائے اور اونٹ کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ سات افراد کی طرف سے (قربانی میں) کفایت کر جاتے ہیں؟ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ کیا (کسی ایک گائے یا اونٹ کے) سات نفوس ہوتے ہیں؟“ عامر رحمہ اللہ نے عرض کیا: ”کوْفہ میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب (صحابہ کرام) نے مجھے یہی فتویٰ دیا ہے۔“ اس پر وہاں موجود لوگوں نے کہا: ”جی ہاں، رسول اللہ ﷺ، اور سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے بھی یہی بات فرمائی ہے۔“ تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مجھے اس کا علم نہ تھا۔“