المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الأضحية— قربانی کے احکام و مسائل کا بیان۔
باب (أحاديث 2286–2303) باب: (احادیث 2286 تا 2303)
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ كُرْزِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : إِنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ كَانَ يُفْتِي بِخُرَاسَانَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا اشْتَرَى [الْأُضْحِيَّةَ] ، وَأَسْمَاهَا ، وَدَخَلَ الْعَشْرُ أَنْ يَكُفَّ عَنْ شَعَرِهِ وَأَظْفَارِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ .
قَالَ قَتَادَةُ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : نَعَمْ . فَقُلْتُ : عَمَّنْ ؟ قَالَ : عَنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
قُلْتُ : أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، فَقَالَ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا .مسدد نے روایت کیا ہے کہ یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی، انہیں شعبہ نے، انہیں قتادہ نے، اور انہیں کرز بن ابی کثیر نے، جنہوں نے فرمایا: ”یحییٰ بن یعمر خراسان میں یہ فتویٰ دیا کرتے تھے کہ جو شخص قربانی کا جانور خریدے، اسے (قربانی کے لیے) نامزد کر لے، اور (ذوالحجہ کا پہلا) عشرہ شروع ہو جائے تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رکا رہے، یہاں تک کہ وہ قربانی کر لے۔“
قتادہ فرماتے ہیں: ”میں نے اس بات کا ذکر سعید بن مسیب سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں (یہی حکم ہے)۔“ میں نے پوچھا: ”یہ حکم آپ نے کس سے لیا ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”محمد ﷺ کے اصحاب سے (یہ حکم منقول ہے)۔““
(مصنف) کہتا ہے: امام مسلم نے سعید بن مسیب سے اسے دو دیگر اسناد سے بھی روایت کیا ہے، اور (ان اسناد میں) انہوں (سعید بن مسیب) نے فرمایا ہے: ”(یہ حکم) ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے (مروی ہے)۔“