المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ وسم الدواب والإخصاء باب: جانوروں کو نشان زدہ کرنے (داغنے) اور انہیں خصی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2285
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ يَحْيَى ، وَعِيسَى ابْنَيْ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِيهِمَا ، قَالَ : مُرَّ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعِيرٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ : لَوْ أَنَّ أَهْلَ هَذَا الْبَعِيرِ عَزَلُوا النَّارَ عَنْ هَذِهِ الدَّابَّةِ . فَقَالَ : قُلْتُ : لَأَسِمَنَّ فِي أَبْعَدِ مَكَانٍ مِنْ وَجْهِهَا ، قَالَ : فَوَسَمْتُ فِي عَجْبِ الذَّنَبِ .ترجمہ
ابویعلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے ایک ایسا اونٹ گزارا گیا جس کے چہرے پر داغا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کاش اس اونٹ کے مالکوں نے اس جانور کو (اس کے چہرے پر داغنے کی) آگ سے بچایا ہوتا۔“ (طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: میں نے (اپنے دل میں) کہا: میں ضرور (آئندہ اپنے جانور کو) اس کے چہرے سے دور ترین جگہ پر داغوں گا۔ چنانچہ میں نے (پھر اپنے جانور کو) دم کی جڑ پر داغا۔