المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ النعال باب: جوتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَشْهَلُ ، ثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ : أَتَيْتُ حَذَّاءً بِالْمَدِينَةِ ، فَقُلْتُ : احْذُ نَعْلِي ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَذَوْتُهَا هَكَذَا ، وَإِنْ شِئْتَ حَذَوْتُهَا كَمَا رَأَيْتَ نَعْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، [فَقُلْتُ : وَأَنْتَ رَأَيْتَ نَعْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] ؟ قَالَ : رَأَيْتُهَا فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَ : حَسِبْتُهُ قَالَ : فِي بَيْتِ فَاطِمَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، قُلْتُ : احْذُهَا كَمَا رَأَيْتَ نَعْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَحَذَاهَا لَهَا قِبَالَانِ ، فَقَالَ : وَقَدِمْتُ وَقَدْ أَخَذَهَا ابْنُ سِيرِينَ .
( 100 ) حَدِيثُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَا يُقَالُ عِنْدَ اللِّبَاسِ . تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ الْبُيُوعِ .اشہل سے روایت ہے، وہ ابن عون رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”میں مدینہ میں ایک جوتا بنانے والے کے پاس آیا اور اس سے کہا: 'میرے جوتے سی دو۔' اس نے کہا: 'اگر تم چاہو تو میں انہیں اس طرح سی دوں گا، اور اگر تم چاہو تو میں انہیں ایسے سی دوں گا جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا دیکھا تھا۔' میں نے (حیرت سے) پوچھا: 'کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا دیکھا ہے؟' اس نے جواب دیا: 'میں نے اسے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دیکھا تھا۔' ابن عون کہتے ہیں: میرا خیال ہے اس نے کہا تھا: 'فاطمہ بنت عبید اللہ بن عباس کے گھر میں۔' میں نے کہا: 'تو پھر ویسے ہی سی دو جیسے تم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا دیکھا تھا۔' ابن عون فرماتے ہیں: تو اس (جوتا ساز) نے اس (جوتے) کے لیے دو تسمے بنا دیے۔ ابن عون کہتے ہیں: (کچھ عرصے بعد) جب میں واپس آیا تو ابن سیرین اسے لے جا چکے تھے۔
(100) سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث جو لباس پہنتے وقت کہی جانے والی دعا کے بارے میں ہے، وہ بیوع (خرید و فروخت) کے ابتدائی ابواب میں گزر چکی ہے۔