المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ النعال باب: جوتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 2279
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَشْهَلُ [هُوَ ابْنُ حَاتِمٍ ] ، ثَنَا زِيَادٌ أَبُو عُمَرَ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى شَيْخٍ يُقَالُ لَهُ : مُهَاجِرٌ . وَعَلَيَّ نَعْلٌ لَهُ قِبَالَانِ . قَالَ : وَقَدْ كُنْتُ تَرَكْتُهُ لِشُهْرَتِهِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقُلْتُ : أَرَدْتُ تَرْكَهُ لِشُهْرَتِهِ . فَقَالَ : لَا تَتْرُكْهُ ، فَإِنَّ نَعْلَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ هَكَذَا .ترجمہ
زیاد ابوعمر رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک شیخ مہاجر نامی کے پاس گئے، اور میں نے ایسے جوتے پہنے ہوئے تھے جن کے دو تسمے تھے۔ (زیاد نے مزید کہا:) میں نے انہیں ان کے نمایاں ہونے کی وجہ سے ترک کر دیا تھا۔ (اس پر شیخ مہاجر نے) پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: ”میں انہیں ان کے نمایاں ہونے کی وجہ سے ترک کرنے کا ارادہ کر رہا تھا۔“ تو شیخ مہاجر نے فرمایا: ”انہیں مت چھوڑو، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے نعل مبارک اسی طرح کے تھے۔“
امام حارث نے فرمایا: ہمیں اشہل [یہ ابن حاتم ہیں] نے یہ حدیث بیان کی، انہیں زیاد ابوعمر نے۔