المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، ثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ نُصَيْرٍ ، مَوْلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ يُونُسَ أَبِي عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ أَنَسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : جَعَلَكَ اللهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَأَنَا مَعَكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " آمِينَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ عَلِّمْنِي عَمَلًا صَالِحًا أَعْمَلُهُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَقِيمِي الصَّلَاةَ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ ، وَاهْجُرِي الْمَعَاصِيَ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ ، وَاذْكُرِي اللهَ كَثِيرًا فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ تَلْقِيهِ بِهِ " .سیدہ ام انس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کی اور آپ کی بارگاہ میں عرض کی: «جَعَلَكَ اللهُ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى مِنَ الْجَنَّةِ وَأَنَا مَعَكَ» ”اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے بلند ترین مقام رفیقِ اعلیٰ میں جگہ عطا فرمائے اور مجھے بھی (جنت میں) آپ کی معیت نصیب فرمائے“، تو نبی کریم ﷺ نے (ان کی اس دعا پر) فرمایا: ”آمین“۔ انہوں نے پھر التجا کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا نیک عمل سکھا دیجیے جسے میں بجا لاؤں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم نماز قائم کیا کرو کیونکہ یہ بہترین جہاد ہے، اور گناہوں کو بالکل ترک کر دو کیونکہ یہ سب سے افضل ہجرت ہے، اور اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر کیا کرو کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ تم اس حال میں اس سے ملو کہ تم یہ عمل (یعنی ذکرِ الٰہی) کر رہی ہو“۔
اس حدیث کو امام طبرانی نے ’المعجم الکبیر‘ میں اور دیگر ائمہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں اگرچہ بعض راویوں کے حفظ پر کلام ہے لیکن اس میں بیان کردہ اعمال کی فضیلت دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہے۔