❮
❯
حدیث نمبر: 222
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ صَلَّى الْغَدَاةَ وَأُصِيبَتْ ذِمَّتُهُ فَقَدِ اسْتُبِيحَ حِمَى اللهِ تَعَالَى ، وَخُفِرَتْ ذِمَّتُهُ ، فَأَنَا طَالِبٌ بِذِمَّتِهِ " .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے صبح کی نماز (فجر) ادا کی اور پھر (کسی زیادتی کے ذریعے) اس کے عہد و امان کو نقصان پہنچایا گیا، تو یقیناً اللہ تعالیٰ کی مختص کردہ چراگاہ (حرمت و حدود) کو پامال کرنا روا سمجھ لیا گیا اور اس کے حقِ امان کی عہد شکنی کی گئی، پس میں خود اس کے عہد و امان کا مطالبہ کرنے والا (مدعی) ہوں۔“
اس حدیث کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس کا مفہوم صحیح مسلم کی اس روایت سے تقویت پاتا ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ جو شخص صبح کی نماز پڑھتا ہے وہ اللہ کے ذمے (امان) میں ہوتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 4107، 4120، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 222، وأخرجه البزار فى «مسنده» برقم: 6465، 6943، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 2814»