❮
❯
حدیث نمبر: 2226
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عِيسَى ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ تَخْتَضِبُ ، فَقَالَ : هَلَّا يَا أُمَّ فُلَانٍ ، هَكَذَا عَلَى ظَهْرِ كَفِّهِ ، يَعْنِي النَّقْشَ .
ترجمہ

بنو سلیم سے تعلق رکھنے والی ایک جدہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس ایسے وقت تشریف لائے جب وہ (ہاتھوں پر) خضاب لگا رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے فلاں کی والدہ! کاش تم اسے اپنے ہاتھ کی پشت پر یوں نقش و نگار کی صورت میں لگاتیں!“ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے (اپنے) ہاتھ کی پشت کی طرف اشارہ کیا، یعنی خضاب کا نقش و نگار (ڈیزائن)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2226
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»