المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهَرٍ عَذْبٍ جَارٍ أَوْ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ ، يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پانچ نمازوں کی مثال ایک ایسی شیریں اور رواں نہر کی سی ہے، یا (آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ) ایک لبریز اور گہرے پانی کی مانند ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر (بہہ رہی) ہو، اور وہ شخص اس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو، تو کیا (وہ کثرتِ غسل) اس کے جسم کے میل کچیل میں سے کچھ بھی باقی رہنے دے گا؟“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں داؤد بن زبرقان اور علی بن زید بن جدعان کی موجودگی کے باعث ضعف پایا جاتا ہے، تاہم نمازوں کی یہ تمثیل صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں دیگر جلیل القدر صحابہ سے صحیح اور مستند اسناد کے ساتھ مروی ہے۔