المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ لبس الثَّوْبِ وجره مِنْ الخيلاء إِلَّا لضرورة باب: تکبر سے لباس پہننے اور لٹکانے کی ممانعت، سوائے ضرورت کے، کا بیان۔
حدیث نمبر: 2217
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِ الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا سَيَّارٌ ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، نَا عُمَرُ مَوْلَى سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ ، قَالَ : " سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيَّ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ ، قَالَ : كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يَلْبَسُونَ لَا يَطْعَنُونَ عَلَى الَّذِينَ لَا يَلْبَسُونَ ، وَالَّذِينَ لَا يَلْبَسُونَ لَا يَطْعَنُونَ عَلَى الَّذِينَ يَلْبَسُونَ " .ترجمہ
عبداللہ بن احمد نے اپنی کتاب ”زیادات الزھد“ میں یہ روایت نقل کی ہے کہ علی بن مسلم نے، انہیں سیّار نے، انہیں یزید بن زریع نے، انہیں عمر، جو سلام بن ابی مطیع کے آزاد کردہ غلام تھے، نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے بکر بن عبداللہ المزنی کو بصرہ کی مسجد میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے جو لوگ (عمدہ) لباس پہنتے تھے، وہ ان لوگوں پر طعن نہیں کرتے تھے جو (سادہ) لباس پہنتے تھے، اور وہ لوگ جو (سادہ) لباس پہنتے تھے، وہ ان لوگوں پر طعن نہیں کرتے تھے جو (عمدہ) لباس پہنتے تھے۔“