المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب اللباس والزينة— لباس اور زینت کے احکام و آداب کا بیان۔
بَابُ النَّدْبِ إِلَى العمامة باب: عمامہ (پگڑی) باندھنے کی ترغیب اور اس کے مستحب ہونے کا بیان۔
قَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُسْرٍ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحُبْرَانِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : عَمَّنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ غَدِيرِ خُمٍّ بِعِمَامَةٍ سَدَلَهَا خَلْفِي ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى أَيَّدَنِي يَوْمَ بَدْرٍ وَحُنَيْنٍ بِمَلَائِكَةٍ يَعْتَمُّونَ هَذِهِ الْعِمَامَةَ ، وَقَالَ : " إِنَّ الْعِمَامَةَ حَاجِزَةٌ بَيْنَ الْكُفْرِ وَالْإِيمَانِ ... الْحَدِيثَ .
2208 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هِشَامٍ ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَعِيدٍ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ ، عَنْ أَبِي رَاشِدٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ : عَمَّنِي ... ( فَذَكَرَهُ ) ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَسَدَلَ طَرَفَيْهَا عَلَى مَنْكِبِي ، وَقَالَ : حَاجِزَةٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُشْرِكِينَ " .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے غدیر خم کے دن ایک عمامہ پہنایا جس کا شملہ آپ ﷺ نے میرے پیچھے لٹکایا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے بدر اور حنین کے دن میری تائید ایسے فرشتوں سے فرمائی تھی جو اسی طرح کے عمامے پہنے ہوئے تھے“، اور (یہ بھی) فرمایا: ”بے شک عمامہ کفر اور ایمان کے درمیان ایک حدِ فاصل ہے“۔
اور ابوبکر اور احمد بن منیع دونوں کہتے ہیں: ہمیں علی بن ہشام نے اشعث بن سعید سے، انہوں نے عبداللہ سے، انہوں نے ابوراشد سے حدیث بیان کی، ابوراشد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے (اسی طرح) عمامہ پہنایا تھا...“ (پھر انہوں نے بقیہ حدیث بیان کی)، البتہ اس روایت میں یہ الفاظ تھے: ”آپ ﷺ نے اس کے دونوں کناروں کو میرے کندھوں پر لٹکایا“، اور (یہ بھی) فرمایا: ”عمامہ مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ایک حدِ فاصل ہے“۔