❮
❯
حدیث نمبر: 2207
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمُسَيِّبِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللهَ تَعَالَى طَيِّبٌ يُحِبُّ الطَّيِّبَ ، نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ ، كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرِيمَ ، جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ ، فَنَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ الَّتِي تَجْمَعُ الْأَكْبَاءَ فِي دُورِهَا " .
فِيهِ خَالِدٌ . ضَعِيفٌ .
ترجمہ

سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ پاکیزہ ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے، وہ صاف ستھرا ہے اور صفائی کو پسند کرتا ہے، وہ باکرم (باعزت اور فیاض) ہے اور باکرم (عزت دار اور فیاض) لوگوں کو پسند کرتا ہے، وہ بڑا فیاض ہے اور فیاضی کو پسند کرتا ہے، پس تم اپنے صحنوں (اور آس پاس کے احاطوں) کو صاف ستھرا رکھو اور ان یہودیوں کی طرح نہ بنو جو اپنے گھروں میں کوڑا کرکٹ جمع رکھتے ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف راوی ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب اللباس والزينة / حدیث: 2207
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: ضَعِيفٌ . »
«أخرجه جامع الترمذي برقم: 2799، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 790، وأخرجه مسند البزار برقم: 1114»