المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ شَهَادَةِ الزور وعن كتمان شَهَادَةِ الحق باب: جھوٹی گواہی اور حق کی گواہی چھپانے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا مَيْسَرَةُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عَائِشَةَ السَّعْدِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَا : خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَمَنْ رَجَعَ عَنْ شَهَادَةٍ أَوْ كَتَمَهَا أَطْعَمَهُ اللهُ لَحْمَهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ [يَوْمَ الْقِيَامَةِ] ، فَيُدْخِلُهُ النَّارَ ، وَهُوَ يَلُوكُ لِسَانَهُ ، ( وَمَنْ شَهِدَ ) شَهَادَةَ الزُّورِ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ عُلِّقَ بِلِسَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ صُيِّرَ مَعَ الْمُنَافِقِينَ ( فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ ) مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ تَحَلَّمَ مَا لَمْ يَحْلُمْ كَانَ كَمَنْ شَهِدَ الزُّورَ ... الْحَدِيثَ . هَذَا الْحَدِيثُ مَوْضُوعٌ .سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ بھی ذکر کیا: ”اور جس شخص نے گواہی سے رجوع کیا یا اسے چھپایا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام مخلوقات کے سروں پر اس کا اپنا گوشت کھلائیں گے، پھر اسے جہنم میں داخل کریں گے اور وہ اپنی زبان چبا رہا ہوگا۔ اور جس شخص نے کسی مسلمان یا کافر کے خلاف جھوٹی گواہی دی، قیامت کے دن اسے اس کی زبان سے لٹکایا جائے گا، پھر اسے منافقین کے ساتھ جہنم کے سب سے نچلے درجے (درک اسفل) میں ڈال دیا جائے گا۔ اور جس شخص نے ایسے خواب گھڑے جو اس نے نہیں دیکھے، وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے جھوٹی گواہی دی...“
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔