❮
❯
حدیث نمبر: 2202
( وَ ) قَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ وَلَدٌ لَهُ ، فَقَالَ ( لَهُ ) : يَا رَسُولَ اللهِ ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ تَشْهَدَ بِصَدَقَةٍ أَتَصَدَّقُ بِهَا عَلَى ابْنِي هَذَا . فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَأَعْطَيْتَهُ مِثْلَ هَذَا ؟ قَالَ : لَا . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَلَا أَشْهَدُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کے ساتھ اس کا ایک بیٹا بھی تھا۔ اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ، میں چاہتا ہوں کہ آپ میری اس صدقے پر گواہ بن جائیں جو میں اپنے اس بیٹے کو دے رہا ہوں۔“ اس پر رسول اللہ ﷺ نے استفسار فرمایا: ”کیا اس کے علاوہ آپ کے اور بھی بچے ہیں؟“ اس نے جواب دیا: ”ہاں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تو کیا آپ نے دوسرے بچوں کو بھی اتنا ہی حصہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”نہیں۔“ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میں اس پر گواہ نہیں بن سکتا۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القضاء والشهادات / حدیث: 2202
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 606»