المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مِنْ لَا تقبل شهادته وترد باب: ان لوگوں کا بیان جن کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ " ، ثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الْجُعَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ " هُوَ الْخَطْمِيُّ " ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ " الْقُرَظِيَّ " ، يَسْأَلُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي سَعِيدٍ " الْخُدْرِيَّ " رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا سَمِعْتَ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : " سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَثَلُ الَّذِي يَلْعَبُ بِالنَّرْدِ ، ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي مَثَلُ الَّذِي يَتَوَضَّأُ بِالْقَيْحِ وَدَمِ الْخِنْزِيرِ يَقُولُ : " لَا تُقْبَلُ صَلَاتُهُ " .
ابویعلیٰ نے بیان کیا کہ ہمیں عبیداللہ بن عمر بن میسرہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں مکی بن ابراہیم نے جعید بن عبدالرحمن سے، انہوں نے موسیٰ بن عبدالرحمن الخطمی سے روایت کیا کہ انہوں نے محمد بن کعب القرظی کو سیدنا عبدالرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ پوچھتے ہوئے سنا کہ ”آپ نے اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کو نبی اکرم ﷺ سے کیا بیان کرتے ہوئے سنا؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اس شخص کی مثال جو نرد (چوسر) کھیلتا ہے اور پھر کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے، اس شخص کی مثال جیسی ہے جو پیپ اور خنزیر کے خون سے وضو کرے۔“ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔“