المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إكرام أحد الخصمين وعن المخاصمة بغير حَقٌّ باب: دو فریقوں میں سے ایک کی تعظیم اور ناحق مقدمہ بازی کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2183
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، ثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو [بْنِ أَبِي عَمْرٍو ] ، عَنِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ شَدَّ عَلَى - غَفْلَةٍ - مُخَاصِمٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ بِخُصُومَتِهِ لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللهِ تَعَالَى حَتَّى يَنْزِعَ .ترجمہ
مُطَّلِب رَحِمَہُ اللہ سے مروی ہے کہ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے حقیقتِ معاملہ سے ناواقف ہونے کے باوجود کسی جھگڑالو فریق کی (ناحق) پشت پناہی کی، وہ مسلسل سَخَطِ اِلٰہِی (اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی) میں رہتا ہے جب تک کہ وہ اس (حمایت) سے دستبردار نہ ہو جائے۔“
اس حدیث کو اِمَام اَبُو بَکْر بِن اَبِی شَیْبَہ رَحِمَہُ اللہ نے اپنی کتاب اَلْمُصَنَّف میں روایت کیا ہے۔