المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إكرام أحد الخصمين وعن المخاصمة بغير حَقٌّ باب: دو فریقوں میں سے ایک کی تعظیم اور ناحق مقدمہ بازی کی ممانعت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقْضِي ، فَجَاءَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَكَمِ ، فَجَلَسَ عَلَى وِسَادَتِهِ الَّتِي يَتَّكِئُ عَلَيْهَا . قَالَ : فَظَنَّ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ جَاءَ لِحَاجَةٍ غَيْرِ الْحُكْمِ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا لَكَ ؟ قَالَ : اسْتَأْدَى عَلِيَّ الْحَارِثُ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ : قُمْ فَاجْلِسْ مَعَ خَصْمِكَ ; فَإِنَّهَا سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .نعیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سَیِّدُنَا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی مجلسِ قَضَاوَت میں حاضر تھا، اسی دوران حارث بن الحکم آیا اور سَیِّدُنَا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے اس تکیے (وسادہ) پر بیٹھ گیا جس پر وہ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ سَیِّدُنَا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے یہ گمان کیا کہ وہ فیصلے کے علاوہ کسی اور ضرورت سے آیا ہے، اتنے میں ایک اور شخص آیا اور سَیِّدُنَا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کے سامنے بیٹھ گیا، آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے اس سے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے؟“ اس نے عرض کیا: ”حارث نے میرے خلاف اپنا حق طلب کیا ہے۔“ تو سَیِّدُنَا اَبُوہُرَیْرَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے (حارث سے) فرمایا: ”اٹھو اور اپنے فریقِ مخالف کے برابر میں بیٹھو؛ کیونکہ سَیِّدُنا اَبُوالْقَاسِم ﷺ کی «سُنَّت» ”مبارک طریقہ“ یہی ہے۔“
یہ روایت مَسْنَدُ الْحَارِثِ کی ہے اور امام حارث بن ابی اسامہ رحمہ اللہ نے اسے اپنی مَسْنَد میں نقل کیا ہے۔