المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ إكرام أحد الخصمين وعن المخاصمة بغير حَقٌّ باب: دو فریقوں میں سے ایک کی تعظیم اور ناحق مقدمہ بازی کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَنَزَلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَأَضَافَهُ فَقَالَ : إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُخَاصِمَ . فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : تَحَوَّلْ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَضِيفَ الْخَصْمَ إِلَّا وَمَعَهُ خَصْمُهُ .اِمَام حَسَن بَصْرِی رَحِمَہُ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا اور سَیِّدُنَا عَلِی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کے ہاں مہمانی میں ٹھہرا، آپ نے اس کی ضیافت فرمائی، پھر اس نے عرض کیا: ”میں ایک مُقَدَّمَہ (دعویٰ) پیش کرنا چاہتا ہوں۔“ تو سَیِّدُنَا عَلِی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ نے اس سے فرمایا: ”تم (یہاں سے) کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاؤ، کیونکہ نَبِیِّ کَرِیم ﷺ نے ہمیں اس بات سے مَنَع فرمایا ہے کہ ”ہم کسی فَرِیقِ نِزَاع کی مہمانی کریں سوائے اس صورت کے کہ اس کے ساتھ اس کا فَرِیقِ مُقَابِل (مُدِّعٰی عَلَیْہ) بھی موجود ہو۔““
یہ روایت «مُسْنَدُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْه» (حدیث: 2181) میں مروی ہے۔