المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، ثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا ، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " .
قُلْتُ : هَذَا مَقْلُوبٌ ، وَالْمَحْفُوظُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ
( 10 ) حَدِيثُ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : مَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرِيضَتِي ، يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي صَلَاةِ النَّافِلَةِ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم (دین کی راہ پر) ثابت قدم رہو اور تم (اس کی جزا و ثمرات کا) ہرگز مکمل احاطہ نہ کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے تمام اعمال میں سب سے بہترین عمل نماز ہے، اور وضو پر (ہمیشہ) مداومت صرف وہی شخص کرتا ہے جو (کامل) مومن ہو۔“
میں کہتا ہوں کہ اس مقام پر سند میں راوی کا نام بدل گیا ہے (یہ مقلوب ہے)، جبکہ سالم بن ابی الجعد کے واسطے سے جو روایت محفوظ ہے وہ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث: ”میرا بندہ میری فرض کردہ عبادات کی ادائیگی جیسی کسی اور چیز کے ذریعے میرا اتنا قرب حاصل نہیں کرتا (جتنا فرائض سے حاصل ہوتا ہے)“، ان شاء اللہ تعالیٰ نفل نماز کے بیان میں آئے گی۔