المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 219
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ . 219 \ 2 - ( ح ) .
[2] [وَ] قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى .
قَالَا : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " قَالَ لِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ : حُبِّبَتْ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ " .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مجھ سے جبریل علیہ السلام نے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) نماز آپ کے لیے محبوب بنا دی گئی ہے، لہٰذا آپ اس سے جتنا چاہیں (نوافل و طوالت کی صورت میں) حظ حاصل کریں۔“
اس حدیث کی سند میں علی بن زید بن جدعان نامی راوی پایا جاتا ہے جو جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے، تاہم نماز کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ کی اس سے رغبت دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔