المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 217
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ ، ثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، هُوَ الْأُبُلِّيُّ ، عَنْ أَنَسٍ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَنَسُ ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ أَبَدًا تُصَلِّي فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي عَلَيْكَ مَا دُمْتَ تُصَلِّي " .ترجمہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: ”اے انس! اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ ہمیشہ نماز (کی حالت) میں رہو تو ایسا ضرور کرو؛ کیونکہ جب تک تم نماز پڑھنے میں مشغول رہو گے، فرشتے تم پر مسلسل رحمتیں اور دعائیں بھیجتے رہیں گے۔“
اس روایت کی سند میں کثیر بن عبداللہ الابلی راوی موجود ہے، جسے محدثین نے ضعیف اور متروک قرار دیا ہے، اس لیے یہ روایت سندی اعتبار سے غیر معتبر اور انتہائی کمزور ہے۔