المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يخشى عَلَى مِنْ قضى بغير حَقٌّ باب: ناحق فیصلہ کرنے والے کے انجام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2177
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : " حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ ، عَنْ شُرَيْحٍ : أَنَّهُ كَانَ إِذَا غَضِبَ أَوْ جَاعَ قَامَ فَلَمْ يَقْضِ بَيْنَ أَحَدٍ .ترجمہ
امام مُسَدَّد رَحِمَہُ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں ہُشَیْم نے اَبُو اِسْحَاق سے، انہوں نے اَبُو حَرِیز سے اور انہوں نے نامور قاضی حضرت شُرَیْح رَحِمَہُ اللہ سے روایت کیا ہے کہ ”وہ جب غصے کی حالت میں ہوتے یا انہیں بھوک لگی ہوتی تو (عدالت سے) اٹھ کھڑے ہوتے اور پھر کسی کے درمیان فیصلہ نہ فرماتے تھے۔“
اس اثر سے یہ علمی نکتہ معلوم ہوتا ہے کہ قاضی یا مفتی کو ایسی کیفیت میں فیصلہ یا فتویٰ نہیں دینا چاہیے جس میں اس کی ذہنی یکسوئی متأثر ہونے کا اندیشہ ہو۔