المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب القضاء والشهادات— قضاء اور شہادتوں کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يخشى عَلَى مِنْ قضى بغير حَقٌّ باب: ناحق فیصلہ کرنے والے کے انجام کا بیان۔
حدیث نمبر: 2176
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قُلْتُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا ابْتُلِيَ أَحَدُكُمْ بِالْقَضَاءِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا يَقْضِي وَهُوَ غَضْبَانُ ، وَلْيُسَوِّ بَيْنَهُمْ فِي الْمَجْلِسِ وَالنَّظَرِ وَالْإِشَارَةِ ، وَلَا يَرْفَعُ صَوْتَهُ عَلَى أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ فَوْقَ الْآخَرِ " .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کو مسلمانوں کے درمیان «القَضَاءُ» (فیصلہ سازی) کے منصب پر فائز کر کے آزمایا جائے، تو وہ غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ کرے، اور اسے چاہیے کہ ان (فریقین) کے مابین اپنی مَجْلِس (نشست)، اپنی نگاہ اور اپنے اشارے میں مکمل برابری رکھے، اور ایک «خَصْم» (فریقِ مقدمہ) پر دوسرے کی نسبت اپنی آواز کو ہرگز بلند نہ کرے۔“
اس حدیث کو امام اَبُو یَعْلٰی نے اپنی «مُسْنَد» میں روایت کیا ہے۔