❮
❯
حدیث نمبر: 2173
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَنَا أَبُو سِنَانٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : اقْضِ بَيْنَ النَّاسِ ، فَقَالَ : لَا أَقْضِي بَيْنَ رَجُلَيْنِ ، وَلَا أَؤُمُّهُمَا ، قَالَ : فَإِنَّ أَبَاكَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْضِي ، قَالَ : كَانَ أَبِي يَقْضِي ، فَإِنْ أَشْكَلَ عَلَيْهِ شَيْءٌ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنْ أَشْكَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ ، وَأَنَا لَا أَجِدُ مَنْ أَسْأَلُهُ ، وَإِنِّي لَسْتُ مِثْلَ أَبِي ، وَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ الْقُضَاةَ ثَلَاثَةٌ : رَجُلٌ خَافَ فَمَالَ بِهِ هَوًى فَهُوَ فِي النَّارِ ، [وَرَجُلٌ تَكَلَّفَ الْقَضَاءَ فَقَضَى بِجَهْلٍ فَهُوَ فِي النَّارِ] ، وَرَجُلٌ اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَذَاكَ يَنْجُو كَفَافًا لَا لَهُ وَلَا عَلَيْهِ ، وَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ عَاذَ بِاللهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ ، قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَإِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ مِنْكَ أَنْ تَجْعَلَنِي قَاضِيًا ، فَأَعْفَاهُ ، وَقَالَ : لَا تُخْبِرَنَّ أَحَدًا .
2173 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، وَأُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ - فَرَّقَهُمَا - ، وَهَذَا لَفْظُ أُمَيَّةَ ، قَالَا : ثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي [جَمِيلَةَ] ، يَتَحَدَّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، قَالَ : إِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : اذْهَبْ [فَكُنْ] قَاضِيًا ، قَالَ : أَوَ يُعْفِينِي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : اذْهَبْ فَاقْضِ بَيْنَ النَّاسِ ، قَالَ : أَوَ تُعْفِينِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ؟ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَيْكَ إِلَّا ذَهَبْتَ فَقَضَيْتَ ، قَالَ : لَا تَعْجَلْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ عَاذَ بِاللهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ . قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : إِنِّي أَعُوذُ بِاللهِ أَنْ أَكُونَ قَاضِيًا . قَالَ : وَمَا يَمْنَعُكَ وَقَدْ كَانَ أَبُوكَ قَاضِيًا ؟ قَالَ : لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : مَنْ كَانَ قَاضِيًا يَقْضِي بِجَوْرٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، [وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا [يَقْتَضِي] بِجَهْلٍ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ] ، وَمَنْ كَانَ قَاضِيًا عَالِمًا فَقَضَى بِحَقٍّ أَوْ بِعَدْلٍ سَأَلَ اللهَ أَنْ يَنْفَلِتَ كَفَافًا .
قُلْتُ : أَخْرَجَ التِّرْمِذِيُّ [بَعْضَهُ] ، وَقَالَ : إِنَّ فِيهِ انْقِطَاعًا .
ترجمہ

یزید بن عبد اللہ بن مَوْہَب سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”لوگوں کے درمیان فیصلے کیا کریں“، تو انہوں نے عرض کیا: ”میں نہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کروں گا اور نہ ہی ان کی امامت کروں گا“۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بلاشبہ آپ کے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) بھی تو فیصلے کیا کرتے تھے“، انہوں نے جواب دیا: ”میرے والد فیصلے کرتے تھے، پھر اگر انہیں کسی چیز میں دشواری پیش آتی تو وہ نبی کریم ﷺ سے دریافت فرما لیتے، اور اگر نبی کریم ﷺ پر کوئی معاملہ مشتبہ ہوتا تو آپ ﷺ جبریل علیہ السلام سے دریافت فرما لیتے، جبکہ مجھے ایسا کوئی میسر نہیں جس سے میں پوچھ سکوں، اور میں اپنے والد جیسا بھی نہیں ہوں۔ نیز مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ شخص جو (خدا سے) ڈرا مگر پھر خواہشِ نفس کی طرف مائل ہو گیا تو وہ آگ میں ہے، دوسرا وہ شخص جس نے زبردستی منصبِ قضا سنبھالا اور جہالت کے ساتھ فیصلے کیے تو وہ بھی آگ میں ہے، اور تیسرا وہ شخص جس نے اجتہاد کیا اور درستی کو پہنچ گیا، تو وہ برابر سربر (کفافاً) بچ نکلے گا، نہ اس کے حق میں کچھ ہوگا اور نہ اس کے خلاف کوئی بوجھ ہوگا۔ (پھر انہوں نے پوچھا:) کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ» ”جس نے اللہ کی پناہ مانگی، یقیناً اس نے عظیم پناہ گاہ کی پناہ لی“؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں“۔ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ”تو میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ آپ مجھے قاضی مقرر کریں“، چنانچہ انہوں نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کو معذور قرار دے دیا اور فرمایا: ”اس بارے میں کسی کو نہ بتانا“۔
ابو یعلیٰ نے بھی عبد اللہ بن مَوْہَب سے روایت نقل کی ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ”جاؤ اور قاضی بن جاؤ“، انہوں نے عرض کیا: ”کیا امیر المؤمنین مجھے اس سے معاف نہیں رکھیں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”جاؤ اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرو“، انہوں نے پھر عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے معاف نہیں فرمائیں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے تم پر لازم کر دیا ہے کہ تم جاؤ اور فیصلے کرو“، انہوں نے عرض کیا: ”جلدی نہ کیجیے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: «مَنْ عَاذَ بِاللّٰهِ فَقَدْ عَاذَ بِمَعَاذٍ» ”جس نے اللہ کی پناہ مانگی، یقیناً اس نے عظیم پناہ گاہ کی پناہ لی““، انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں“، ابنِ عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں قاضی بننے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے کیا چیز روکتی ہے جبکہ تمہارے والد بھی قاضی تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو قاضی ظلم کے ساتھ فیصلہ کرے وہ جہنمی ہے، اور جو قاضی جہالت کے ساتھ فیصلہ کرے وہ بھی جہنمی ہے، اور وہ قاضی جو عالم ہو اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے، وہ بھی اللہ سے یہی سوال کرتا ہے کہ وہ برابر سربر (کفافاً) بچ نکلے“۔
امام ترمذی نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے اور فرمایا کہ اس میں انقطاع ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب القضاء والشهادات / حدیث: 2173
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه سنن الترمذي برقم: 1322، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 13319، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 17170، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4875/3»