❮
❯
حدیث نمبر: 2170
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ رَقَبَةَ بْنِ مَصْقَلَةَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ سُفَهَاءُ ، يُقَدِّمُونَ شِرَارَ النَّاسِ ، وَيُؤَخِّرُونَ خِيَارَهُمْ ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ فَلَا يَكُونَنَّ عَرِيفًا ، وَلَا شُرَطِيًّا ، وَلَا جَابِيًا ، وَلَا خَايِنًا " .
ترجمہ

سیدنا ابو سعید خُدری اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں پر یقیناً ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ تم پر نادان اور بے وقوف حکمران یعنی «أُمَرَاءُ سُفَهَاءُ» مسلط ہوں گے، وہ معاشرے کے بدترین لوگوں کو قرب عطا کریں گے (انہیں عہدوں پر آگے بڑھائیں گے) اور بہترین لوگوں کو پیچھے کر دیں گے، نیز وہ نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کر کے پڑھیں گے۔ پس تم میں سے جو شخص وہ زمانہ پائے تو وہ ہرگز ان کا «عَرِيفًا» (سرکاری نگران یا عہدیدار)، نہ «شُرَطِيًّا» (پولیس کا سپاہی)، نہ «جَابِيًا» (ٹیکس و صدقات وصول کرنے والا) بنے اور نہ ہی «خَايِنًا» (خیانت کار یا سرکاری کارندہ) بنے۔“
اس روایت میں نبی کریم ﷺ نے مستقبل میں رونما ہونے والے فتنوں اور انتظامی بگاڑ کی خبر دی ہے اور اہل ایمان کو ظالم و نادان حکمرانوں کے نظام کا آلہ کار بننے سے سختی سے خبردار فرمایا ہے تاکہ وہ ان کے مظالم اور گناہوں میں شریک نہ ہوں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2170
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه صحيح ابن حبان برقم: 4586، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 1115»