المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ العرافة باب: عرافہ یعنی کہانت اور پوشیدہ امور یا مستقبل کے احوال کی خبر دینے سے متعلق باب۔
حدیث نمبر: 2169
حَدَّثَنَا [أَبُو إِبْرَاهِيمَ التُّرْجُمَانُ ، ثَنَا عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ عَرِيفٍ ، وَالْعَرِيفُ فِي النَّارِ . قَالَ : " وَيُؤْتَى بِالشُّرْطِيِّ فَيُقَالُ لَهُ : ضَعْ سَوْطَكَ وَادْخُلِ النَّارَ " .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کے لیے ایک نقیب و نگران (عَرِيف) کا ہونا تو ناگزیر ہے، لیکن (حقوق و فرائض میں کوتاہی کرنے والے) عَرِيف آگ میں ہوں گے۔“ آپ ﷺ نے (مزید) ارشاد فرمایا: ”اور (قیامت کے دن ظالم) پولیس اہلکار (الشُّرْطِيّ) کو لایا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا: ”اپنا کوڑا رکھ دو اور آگ میں داخل ہو جاؤ۔““
اس روایت کی سند میں عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ اور يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضعیف راوی ہیں۔