❮
❯
حدیث نمبر: 216
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْأَنْصَارِيِّ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْوَانَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : جِئْنَا أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ ، سَادِسُنَا رَجُلٌ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَنَحْنُ مِنْ أَسْلَمَ ، فَوَجَدْنَاهُ مُرْتَحِلًا يَخْرُجُ مِنَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : مَرْحَبًا بِكُمْ ، مَا جَاءَ بِكُمْ ؟ قَالُوا : جِئْنَا نُسَلِّمُ عَلَيْكَ ، وَنَقْتَبِسُ مِنْكَ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ ، مَنْ لَقِيَ اللهَ تَعَالَى بِهِنَّ لَمْ يَنْقُصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا غَفَرَ اللهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِلْءَ الْأَرْضِ " ، فَقُلْنَا : فَكَيْفَ لِمَا مَضَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ ؟ قَالَ : تَمْحُوهُ التُّقَى - مَرَّتَيْنِ
فَقَالَ لَهُ الْجُهَنِيُّ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟
قَالَ : سُبْحَانَ اللهِ ، أَيَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَكْذِبَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟! .
ترجمہ

سیدنا ابومروان الاسلمی اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ہم چھ افراد تھے جن میں سے چھٹا شخص قبیلہ جہینہ سے تھا جبکہ باقی ہم سب قبیلہ اسلم سے تعلق رکھتے تھے، جب ہم سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہیں رختِ سفر باندھے مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے پایا، انہوں نے ہمیں دیکھ کر فرمایا: "تمہیں خوش آمدید ہو! تمہارا یہاں کیسے آنا ہوا؟" ہم نے عرض کیا: ہم آپ کو سلام کرنے اور آپ سے علمی فیض حاصل کرنے کی غرض سے حاضر ہوئے ہیں، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "جی ہاں! میں نے ابوالقاسم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”پانچ وقت کی نمازیں؛ جو شخص اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ اس نے ان نمازوں کے کسی حق میں ذرہ برابر بھی کمی نہ کی ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا چاہے وہ زمین کی وسعت کے برابر ہی کیوں نہ ہوں“، اس پر ہم نے سوال کیا: تو پھر ان گناہوں کا کیا ہوگا جو دورِ جاہلیت میں سرزد ہو چکے؟ انہوں نے دو مرتبہ یہ جواب دیا: ”اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری اسے مٹا دیتی ہے“۔
اس پر اس جہنی شخص نے دریافت کیا: کیا آپ نے واقعی یہ بات اللہ کے رسول ﷺ سے خود سنی ہے؟ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے (تعجب کے ساتھ) فرمایا: «سُبْحَانَ اللهِ» ”اللہ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے“، کیا کسی شخص کے لیے یہ روا ہے کہ وہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے؟!۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 216
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حسن لغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»