المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ النَّهْيِ عَنْ الطاعة فِي غَيْرِ الْمَعْرُوفِ باب: نیکی اور معروف کاموں کے علاوہ کسی بھی (ناجائز) معاملے میں اطاعت و فرمانبرداری کرنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، ثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنِ الْأَعْشَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : أَقْبَلَ عُبَادَةُ حَاجًّا مِنَ الشَّامِ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : أَلَا أُخْبِرُكَ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : بَلَى . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا تَعْرِفُونَ ، وَيَعْمَلُونَ بِمَا تُنْكِرُونَ فَلَيْسَ لِأُولَئِكَ عَلَيْهِمْ طَاعَةٌ " .حضرت ازہر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عُبَادَہ بن صامت رَضِیَ اللہُ عَنْہُ شام سے حج کی غرض سے روانہ ہوئے، پھر جب مدینہ منورہ پہنچے تو سیدنا عُثْمَان بْن عَفَّان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”کیا میں آپ کو وہ بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہیں (ضرور بتائیں)۔“ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”عنقریب تم پر ایسے اُمَرَاء (حکمران) ہوں گے جو تمہیں ان بھلے کاموں کا حکم دیں گے جنہیں تم (شریعت کی رو سے) مَعْرُوف (نیکی) جانتے ہو، مگر خود وہ ایسے کام کریں گے جنہیں تم مُنْکَر (برائی) جانتے ہو، پس ایسے لوگوں کی (ان غلط کاموں میں) تم پر کوئی اطاعت و فرمانبرداری لازم نہیں ہے۔“
یہ حدیث اس شرعی قاعدے کی اصل ہے کہ خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔