المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2160
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، [ رَفَعَهُ ] أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [قَالَ] : لَا يَسْتَرْعِي اللهُ تَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ إِلَّا سَأَلَهُ عَنْهَا أَقَامَتْ فِيهِمْ إِمْرَتُهُ أَوْ ضَاعَتْ ، حَتَّى يَسْأَلَهُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ خَاصَّةً .ترجمہ
سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ جب بھی کسی بندے کو کسی «رَعِیَّۃٍ» ”رعایا یا ماتحتوں“ کا نگران بناتا ہے، خواہ ان کی تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ، تو اللہ تعالیٰ اس سے ان کے متعلق ضرور سوال فرمائے گا کہ آیا اس نے ان میں اپنی «اِمْرَتُہٗ» ”حکمرانی و ذمہ داری“ کو بحسن و خوبی قائم رکھا یا اسے ضائع کر دیا، یہاں تک کہ اللہ اس سے خاص طور پر اس کے گھر والوں کے بارے میں بھی باز پرس فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے۔