❮
❯
حدیث نمبر: 2162
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَنَا حَرْبٌ ، ثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُنَيْبٍ ، قَالَ : [إِنَّ] أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُعَاذًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَيْنَا أُمَرَاءُ لَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِكَ ، وَلَا يَأْخُذُونَ بِأَمْرِكَ فَمَا تَأْمُرُنَا فِيهِمْ ؟ قَالَ : لَا طَاعَةَ لِمَنْ لَمْ يُطِعِ اللهَ .
ترجمہ

امام اَبُو یَعْلٰیؒ نے اپنی سَنَد کے ساتھ روایت کیا ہے کہ سیدنا اَنَس بْن مَالِک رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے بیان کیا کہ سیدنا مُعَاذ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عرض کی: ”یَا رَسُولَ اللہِ! ﷺ آپ کا کیا اِرشاد ہے اگر ہم پر ایسے اُمَرَاء (حکمران) مسلط ہوں جو آپ کی سُنَّتِ مُطَہَّرَہ کے مطابق عمل نہ کریں اور نہ ہی آپ کے حکم کی پیروی کریں، تو ایسی صورت میں آپ ہمیں ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: ”اس شخص کی کوئی اِطَاعَت (فرمانبرداری) نہیں ہے جس نے اللہ کی اِطَاعَت نہیں کی۔“
اس حدیث کو اِمَام اَبُو یَعْلٰی الْمَوْصِلِیؒ نے اپنی «مُسْنَد» میں نقل کیا ہے اور یہ روایت اس شرعی قاعدے کی تائید کرتی ہے کہ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2162
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2341، وأخرجه مسند أحمد برقم: 13427، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 4046»