المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2159
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْمَالِكِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا عَدَلَ وَالٍ اتَّجَرَ فِي رَعِيَّتِهِ .ترجمہ
سیدنا اَبُوالْاَسْوَد الْمَالِکِی کے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ حاکِم (یا ذمہ دار افسر) ہرگز عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر سکا جس نے اپنی رَعِیَّت (زیرِ انتظام عوام) کے مابین خود ہی تجارت و کاروبار شروع کر دیا۔“
امام اَحْمَد بْن مَنِیْعؒ نے اس حدیث کو اپنی «الْمُسْنَد» میں روایت کیا ہے، جس میں حکمرانوں اور ذمہ داران کو اپنے منصب کے دوران عوامی سطح پر مالی مفادات حاصل کرنے اور رَعِیَّت کے ساتھ لین دین سے بچنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ عدل و انصاف کا نظام متاثر نہ ہو۔