المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ صَلَاتُهُ ، يَقُولُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا إِلَى صَلَاةِ عَبْدِي ، فَإِنْ وَجَدُوهَا كَامِلَةً كُتِبَتْ لَهُ كَامِلَةً ، وَإِنْ وَجَدُوهَا انْتُقِصَ مِنْهَا شَيْءٌ قَالَ : انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِي تَطَوُّعًا ، فَتُكْمَلُ صَلَاتُهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ " بِهَذَا أَوْ نَحْوِهِ .
215 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، هُوَ ابْنُ زَيْدٍ بِهِ وَأَتَمَّ مِنْهُ ، وَأَوَّلُهُ : " إِنَّ أَوَّلَ مَا افْتَرَضَ اللهُ تَعَالَى عَلَى النَّاسِ مِنْ أَمْرِ دِينِهِمُ الصَّلَاةُ ، وَآخِرَ مَا يَبْقَى الصَّلَاةُ ، وَأَوَّلَ مَا يُحَاسَبُونَ بِهِ الصَّلَاةُ ، يَقُولُ : انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي " ، فَذَكَرَهُ إِلَى أَنْ قَالَ : " فَإِنْ وُجِدَ لَهُ تَطَوُّعٌ أُتِمَّتِ الْفَرِيضَةُ مِنَ التَّطَوُّعِ " ، ثُمَّ قَالَ : " انْظُرُوا هَلْ زَكَاتُهُ تَامَّةٌ ، فَإِنْ وُجِدَتْ زَكَاتُهُ تَامَّةً كُتِبَتْ تَامَّةً ، وَإِنْ وُجِدَتْ نَاقِصَةً " قَالَ : " انْظُرُوا هَلْ لَهُ صَدَقَةٌ ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ تَمَّتْ زَكَاتُهُ مِنَ الصَّدَقَةِ " .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بندے سے (قیامت کے دن) سب سے پہلے جس چیز کا محاسبہ کیا جائے گا، وہ اس کی نماز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرمائے گا: میرے بندے کی نماز کی طرف دیکھو، اگر فرشتوں نے اسے مکمل پایا تو وہ اس کے حق میں مکمل ہی درج کی جائے گی، اور اگر اس کی نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ہیں؟ چنانچہ اس کی (فرضی) نماز کو اس کے نوافل کے ذریعے مکمل کر دیا جائے گا، پھر دیگر اعمال کی جانچ پڑتال بھی اسی تناسب سے ہو گی۔“ امام حارث نے یہ حدیث انہی یا ان جیسے الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث زیادہ تفصیل سے روایت کی ہے جس کے آغاز میں یہ الفاظ ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر ان کے دین کے امور میں سے سب سے پہلے جو چیز فرض قرار دی وہ نماز ہے، اور (دین میں) سب سے آخری چیز جو باقی رہے گی وہ بھی نماز ہی ہے، اور سب سے پہلے جس کا محاسبہ ہو گا وہ بھی نماز ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے بندے کی نماز کو دیکھو۔“ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرمایا: ”پس اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو فرض کو ان نوافل سے مکمل کر دیا جائے گا۔“ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دیکھو، کیا اس کی زکوٰۃ پوری ہے؟ اگر اس کی زکوٰۃ مکمل پائی گئی تو اسے مکمل ہی لکھا جائے گا، اور اگر وہ ناقص نکلی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: دیکھو، کیا اس کے پاس کچھ نفلی صدقہ ہے؟ اگر اس کے پاس صدقہ ہوا تو اس کی زکوٰۃ کو اس نفلی صدقے سے مکمل کر دیا جائے گا۔“