المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2158
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَمِيلٍ ، ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، ثَنَا مَنِيعٌ ، [قَالَ] : إِنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ حَدَّثَهُ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي ، إِمَامٌ ظَلُومٌ عَسُوفٌ غَشُومٌ ، وَآخَرُ غَالٍ فِي الدِّينِ مَارِقٌ فِيهِ .
2158 \ 2 - حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ ، ثَنَا الْأَغْلَبُ بْنُ تَمِيمٍ ، ثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ " عَسُوفٌ " .ترجمہ
سیدنا مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے دو شخص ایسے ہیں جنہیں میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی: ایک «إِمَامٌ ظَلُوْمٌ عَسُوْفٌ غَشُوْمٌ» ”ایسا حکمران جو سخت ظالم، رعایا پر بے جا سختی کرنے والا اور ان کا حق غصب کرنے والا ہو“، اور دوسرا وہ شخص جو «غَالٍ فِي الدِّيْنِ مَارِقٌ فِيْهِ» ”دین میں غلو (انتہا پسندی) کرنے والا اور اس سے نکل جانے والا“ ہو۔“
امام ابو یعلیٰ نے ایک دوسری سند سے معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہ سے اسی کی مانند روایت نقل کی ہے، البتہ اس میں لفظ «عَسُوْفٌ» کا ذکر نہیں ہے۔