المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2157
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَا تَنَالُهُمَا شَفَاعَتِي وَلَنْ تَنَالَهُمَا شَفَاعَتِي أَوْ لَنْ أَشْفَعَ لَهُمَا : أَمِيرٌ ظَلُومٌ غَشُومٌ عَسُوفٌ ، وَكُلُّ غَالٍّ مَارِقٍ .ترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے دو طبقے ایسے ہیں جنہیں میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور نہ ہی میری شفاعت ان تک پہنچے گی (یا آپ ﷺ نے فرمایا: میں ان کی ہرگز سفارش نہیں کروں گا): ایک «أَمِيْرٌ ظَلُوْمٌ غَشُوْمٌ عَسُوْفٌ» ”وہ حکمران جو سراپا ظلم، بے انصاف اور اپنی رعایا کو کچلنے والا ہو“، اور دوسرا ہر وہ «غَالٍ مَارِقٌ» ”جو دین میں غلو کرنے والا اور حق کی حدود سے نکل جانے والا ہو“۔“
امام مسدد رحمہ اللہ نے اس روایت کو جعفر بن سلیمان، معلی اور ابو غالب کی سند سے نقل کیا ہے۔