المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَعْمَلَ [رَجُلًا] عَلَى عَشَرَةِ أَنْفُسٍ ، عَلِمَ أَنَّ فِي الْعَشَرَةِ أَفْضَلَ مِمَّنِ اسْتَعْمَلَ فَقَدْ غَشَّ اللهَ وَرَسُولَهُ ، وَغَشَّ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ .
وَيُؤْتَى بِالَّذِي ضَرَبَ فَوْقَ الْحَدِّ فَيَقُولُ : عَبْدِي لِمَ ضَرَبْتَ فَوْقَ مَا أَمَرْتُكَ ؟ فَيَقُولُ : غَضِبْتُ . [فَقَالَ] : أَكَانَ غَضَبُكَ أَنْ يَكُونَ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِي ؟
وَيُؤْتَى بِالَّذِي قَصَّرَ فَيَقُولُ [عَبْدِي لِمَ قَصَّرْتَ] ؟ [فَيَقُولُ : رَحِمْتُهُ] . فَيَقُولُ : أَكَانَتْ رَحْمَتُكَ أَنْ تَكُونَ أَشَدَّ مِنْ رَحْمَتِي ؟ فَيُؤْمَرُ بِهِمَا جَمِيعًا إِلَى النَّارِ .نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس کسی شخص نے دس آدمیوں پر کسی کو (ذمہ دار یا نگران) مقرر کیا، حالانکہ وہ یہ جانتا تھا کہ ان دس افراد میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اس مقرر کردہ فرد سے «أَفْضَلَ» (زیادہ بہتر اور مستحق) ہے، تو یقیناً اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول ﷺ اور «جَمَاعَةُ الْمُسْلِمِینَ» (مسلمانوں کی جماعت) کے ساتھ خیانت کی۔“
اور (قیامت کے دن) اس شخص کو لایا جائے گا جس نے شرعی «حَدّ» سے تجاوز کرتے ہوئے زیادہ ضربیں لگائی ہوں گی، تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ دریافت فرمائے گا: ”اے میرے بندے! تو نے میرے حکم سے زیادہ کیوں مارا؟“ وہ عرض کرے گا: ”(الٰہی!) مجھے غصہ آگیا تھا۔“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تیرا غصہ میرے غصے سے زیادہ شدید تھا؟“
اور پھر اس شخص کو لایا جائے گا جس نے (سزا کے نفاذ میں) کوتاہی کی ہوگی، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اے میرے بندے! تو نے (سزا میں) کمی کیوں کی؟“ وہ عرض کرے گا: ”مجھے اس پر رحم آگیا تھا۔“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”کیا تیری رحمت میری رحمت سے زیادہ شدید تھی؟“ چنانچہ ان دونوں کے بارے میں (برابر کے مجرم ہونے کی بنا پر) جہنم کا حکم دے دیا جائے گا۔