المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْإِمَامِ العادل وذم الجائر باب: عادل امام کی فضیلت اور ظالم کی مذمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2154
وَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَدَايَا الْعُمَّالِ حَرَامٌ كُلُّهَا .ترجمہ
رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”«هَدَايَا الْعُمَّالِ» (عُمَّال اور سرکاری کارندوں کے لیے تحائف) تمام کے تمام حرام ہیں۔“
اس حدیث کی تخریج امام احمد رحمہ اللہ نے اپنی «مُسْنَد» میں کی ہے، یہ فرمانِ نبوی ﷺ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کسی سرکاری عہدے یا ذمہ داری کی وجہ سے جو تحفہ وصول کیا جائے وہ شرعی طور پر غبن اور خیانت کے حکم میں داخل ہے۔