المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الطاعة وَأَنَّ الدين قد يؤيد بالفاجر باب: اطاعت کی ترغیب اور فاجر شخص کے ذریعے دین کی تائید ہونے کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ثَنَا النَّضْرُ ، ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ ، [يَقُولُ] : إِنَّ سَلَمَةَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ إِذَا [كَانَ] قَامَ عَلَيْنَا أَئِمَّةٌ يَسْأَلُونَنَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَنَا حَقَّنَا ؟ فَسَكَتَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا . فَحَدَّثَ بِهِ الْأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا ، وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ " .علقمہ بن وائل رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ: سیدنا سلمہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: (اے اللہ کے رسول!) آپ کا کیا خیال ہے اگر ہم پر ایسے حکمران مسلط ہو جائیں جو ہم سے اپنا حق (اطاعت و مالی واجبات) تو مانگیں مگر ہمارا حق (عدل و انصاف) ہمیں نہ دیں؟ (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو یا تین مرتبہ خاموش رہے۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے یہ (روایت) بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواباً) ارشاد فرمایا: ”ان کی بات سنو اور اطاعت کرو؛ کیونکہ ان پر اس (مسؤلیت و ذمہ داری) کا بوجھ ہے جو ان پر ڈالا گیا ہے، اور تم پر اس (اطاعت و فرمانبرداری) کا بوجھ ہے جو تم پر ڈالا گیا ہے“۔