❮
❯
حدیث نمبر: 2144
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِمَنْ عِنْدَهَا : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا دَاعِيَانِ : دَاعٍ إِلَى كِتَابِ اللهِ ، وَدَاعٍ إِلَى سُلْطَانِ اللهِ ؟ فَقَالُوا : نُجِيبُ الدَّاعِيَ إِلَى كِتَابِ اللهِ . قَالَتْ : بَلْ أَجِيبُوا الدَّاعِيَ إِلَى سُلْطَانِ اللهِ ، فَإِنَّ كِتَابَ اللهِ مَعَ سُلْطَانِهِ " .
ترجمہ

سیدہ اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے پاس موجود لوگوں سے دریافت فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب دو پکارنے والے پکاریں گے: ایک «کِتَابُ اللّٰہِ» (اللہ کی کتاب) کی طرف بلانے والا، اور دوسرا «سُلْطَانُ اللّٰہِ» (اللہ کے عطا کردہ اقتدار و نظامِ حکومت) کی طرف بلانے والا؟“ ان لوگوں نے عرض کیا: ”ہم تو «کِتَابُ اللّٰہِ» کی طرف بلانے والے کی پکار پر لبیک کہیں گے۔“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم «سُلْطَانُ اللّٰہِ» کی پکار کو قبول کرنا، کیونکہ «کِتَابُ اللّٰہِ» تو اللہ کے «سُلْطَانِ» (اقتدار و غلبہ) کے ساتھ ہی ہے۔“
اِس اثر کی سند میں راوی ارطاۃ بن المنذر اور سیدہ اُمِّ سَلَمَہؓ کے درمیان ایک واسطہ مبہم (مجہول) ہے، نیز بقية بن الوليد تدلیس کے لیے معروف ہیں، جس کی وجہ سے سنداً یہ کلام ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2144
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :الحديث ضعيف لجهالة الراوي عن أم سلمة، [سعد]. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»