المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الطاعة وَأَنَّ الدين قد يؤيد بالفاجر باب: اطاعت کی ترغیب اور فاجر شخص کے ذریعے دین کی تائید ہونے کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا بَقِيَّةُ ، حَدَّثَنِي أَرْطَاةُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِمَنْ عِنْدَهَا : كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا دَاعِيَانِ : دَاعٍ إِلَى كِتَابِ اللهِ ، وَدَاعٍ إِلَى سُلْطَانِ اللهِ ؟ فَقَالُوا : نُجِيبُ الدَّاعِيَ إِلَى كِتَابِ اللهِ . قَالَتْ : بَلْ أَجِيبُوا الدَّاعِيَ إِلَى سُلْطَانِ اللهِ ، فَإِنَّ كِتَابَ اللهِ مَعَ سُلْطَانِهِ " .سیدہ اُمِّ سَلَمَہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے پاس موجود لوگوں سے دریافت فرمایا: ”تمہارا کیا حال ہوگا جب دو پکارنے والے پکاریں گے: ایک «کِتَابُ اللّٰہِ» (اللہ کی کتاب) کی طرف بلانے والا، اور دوسرا «سُلْطَانُ اللّٰہِ» (اللہ کے عطا کردہ اقتدار و نظامِ حکومت) کی طرف بلانے والا؟“ ان لوگوں نے عرض کیا: ”ہم تو «کِتَابُ اللّٰہِ» کی طرف بلانے والے کی پکار پر لبیک کہیں گے۔“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم «سُلْطَانُ اللّٰہِ» کی پکار کو قبول کرنا، کیونکہ «کِتَابُ اللّٰہِ» تو اللہ کے «سُلْطَانِ» (اقتدار و غلبہ) کے ساتھ ہی ہے۔“
اِس اثر کی سند میں راوی ارطاۃ بن المنذر اور سیدہ اُمِّ سَلَمَہؓ کے درمیان ایک واسطہ مبہم (مجہول) ہے، نیز بقية بن الوليد تدلیس کے لیے معروف ہیں، جس کی وجہ سے سنداً یہ کلام ضعیف ہے۔