المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الطاعة وَأَنَّ الدين قد يؤيد بالفاجر باب: اطاعت کی ترغیب اور فاجر شخص کے ذریعے دین کی تائید ہونے کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ التُّنُوخِيُّ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا [قَالَتْ] : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بَعْضَ أَهْلِهِ قَالَ : وَلَا تُنَازِعِ الْأَمْرَ أَهْلَهُ ، وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّهُ الْحَقُّ .
2143 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهِ .
2143 \ 3 - وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا عُمَرُ ، ثَنَا غَيْرُ سَعِيدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، " أَنَّ الْمُوصِيَ بِهَذِهِ الْوَصِيَّةِ ثَوْبَانُ " .سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے بعض اہل خانہ کو وصیت فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اور تم صَاحِبَانِ اَمْر (اہلِ اقتدار) سے حکومت و اختیار کے معاملے میں ہرگز نزاع نہ کرنا، اگرچہ تم یہ سمجھتے ہو کہ حق تمہارے ہی پاس ہے۔“
اِمَام اَبُو یَعْلٰیؒ نے اَبُو بَکْر بن زَنْجُوْیَہ، انہوں نے اَبُو مُسْہِر اور انہوں نے سَعِیْد بن عَبْدِ الْعَزِیْز کے واسطے سے یہی روایت بیان کی ہے۔
اِمَام عَبْد بن حُمَیْدؒ نے عُمَر بن سَعِیْد، انہوں نے سَعِیْد کے علاوہ کسی اور راوی سے، اور انہوں نے اِمَام زُہْرِیؒ سے نقل کیا ہے کہ: ”جس شخصیت کو یہ وصیت فرمائی گئی وہ سَیِّدُنَا ثَوْبَان رَضِیَ اللہُ عَنْہُ تھے۔“