المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى الطاعة وَأَنَّ الدين قد يؤيد بالفاجر باب: اطاعت کی ترغیب اور فاجر شخص کے ذریعے دین کی تائید ہونے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الصَّلَاةُ إِلَى الصَّلَاةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ : الْإِشْرَاكِ بِاللهِ ، وَتَرْكِ السُّنَّةِ ، وَنَكْثِ الصَّفْقَةِ . قَالُوا : قَدْ عَرَفْنَا الْإِشْرَاكَ بِاللهِ ، فَمَا تَرْكُ السُّنَّةِ ، وَنَكْثُ الصَّفْقَةِ ؟ قَالَ : تَرْكُ السُّنَّةِ ، الْخُرُوجُ مِنَ الطَّاعَةِ ، وَنَكْثُ الصَّفْقَةِ ، أَنْ يُبَايِعَ رَجُلًا ثُمَّ يَخْرُجَ عَلَيْهِ بِالسَّيْفِ يُقَاتِلُهُ " .سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ایک «الصَّلَاةُ» ”نَماز“ دُوسری نَماز تک (کے دَرمِیانی گُناہوں) کا «كَفَّارَةٌ» ”کَفَّارہ“ ہے، سِوائے تِین اُمُور کے: «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ» ”اللہ کے ساتھ شِرک کرنا“، «تَرْكُ السُّنَّةِ» ”سُنّت کو ترک کرنا“، اور «نَكْثُ الصَّفْقَةِ» ”عہد و پیمان کی خِلاف وَرزی کرنا“۔“ صَحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: اللہ کے ساتھ شِرک کو تو ہم پہچانتے ہیں، لیکن سُنّت کو چھوڑنے اور عہد و پیمان توڑنے کی کیا حقیقت ہے؟ آپ ﷺ نے اِرشاد فرمایا: ” «تَرْكُ السُّنَّةِ» ”سُنّت کو ترک کرنے“ سے مُراد (مسلمانوں کی) اِطاعت و فَرمانبرداری سے باہَر نِکل جانا ہے، اور «نَكْثُ الصَّفْقَةِ» ”عہد و پیمان کی خِلاف وَرزی“ یہ ہے کہ کوئی آدَمی کِسی کے ہاتھ پر بَیعَت کرے اور پِھر (عہد شکنی کرتے ہوئے) اُس کے خِلاف تَلواَر بُلند کر کے لڑنے کے لیے نِکل کھڑا ہو۔“
امام حارث رحمہ اللہ نے اس روایت کو داؤد بن مُحَبَّر، ہشیم، عوّام اور عبداللہ بن سائب کے واسطے سے نقل کیا ہے۔