❮
❯
حدیث نمبر: 2138
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَةِ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجَرْمِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ جَاءَهُ شَيْخٌ فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ قَالُوا : أَبُو ذَرٍّ ، فَلَمَّا رَآهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَخِي [فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَخِي] لَعَمْرِي لَقَدْ غَلَّظْتَ فِي الْعَزْمَةِ ، وَايْمُ اللهِ ، لَوْ أَنَّكَ عَزَمْتَ أَنْ أَحْبُوَ لَحَبَوْتُ مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أَحْبُوَ " .
ترجمہ

سیدنا زید بن خالد جرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک معمر شخص تشریف لائے، جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ تو سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو فرمایا: «مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَخِي» ”خوش آمدید اور میرے بھائی کو جی آیاں نوں۔“ [تب سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ نے بھی عرض کیا: «مَرْحَبًا وَأَهْلًا بِأَخِي» ”خوش آمدید اور میرے بھائی کو جی آیاں نوں۔“]، (پھر کہا:) میری زندگی کی قسم! آپ نے (مجھ پر پابندی کا) حکم جاری کرنے میں بڑی سختی سے کام لیا ہے، لیکن اللہ کی قسم! اگر آپ مجھے گھٹنوں کے بل رینگ کر آنے کا حکم دے دیتے، تو جب تک مجھ میں سکت باقی رہتی میں ضرور گھٹنوں کے بل رینگ کر حاضر ہوتا۔
حدیث نمبر: 2138، اس کی سند میں طلحہ بن عمرو متروک راوی ہے، تاہم یہ اثر صحابی رسول کی امیر کی اطاعت اور باہمی احترام کی عکاسی کرتا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2138
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»