❮
❯
حدیث نمبر: 2137
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ : ثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ طَلْحَةَ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا ، وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ بَيْنَهُمَا نَزْغٌ مِنَ الشَّيْطَانِ وَمَا بَقَّى وَاحِدٌ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ شَيْئًا ، فَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُصَّ عَلَيْكُمْ مَا كَانَ بَيْنَهُمَا لَفَعَلْتُ ، ثُمَّ لَمْ يَبْرَحَا حَتَّى اسْتَغْفَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ " .
ترجمہ

سَعِید بْنُ الْمُسَیِّب رَحِمَہُ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ ”میں نے سَیِّدُنَا عَلِی اور سَیِّدُنَا عُثْمَان رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کو دیکھا کہ ان کے درمیان شَیْطَان کی طرف سے کوئی اِشتِعال انگیزی ہو گئی تھی اور ان میں سے کسی نے بھی دوسرے کے لیے (کوئی سخت بات کہنے میں) کوئی کسر باقی نہ چھوڑی تھی، چنانچہ اگر میں چاہوں کہ جو کچھ ان کے درمیان ہوا وہ تمہیں تفصیل سے سناؤں تو ضرور سنا دیتا، پھر وہ دونوں اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہٹے جب تک ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کے لیے «اِسْتِغْفَار» یعنی ”اللہ سے بخشش کی دعا“ نہ کر لی۔“
حدیث نمبر: 2137۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2137
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح لغيره. »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»