❮
❯
حدیث نمبر: 2139
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ حَرِيصٍ عَلَى الْجِهَادِ مُؤْدِيًا ، يَعْزِمُ عَلَيْهِ أُمَرَاؤُهُ فِي أَشْيَاءَ لَا يُحْصِيهَا ؟ فَقَالَ : وَاللهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّنَا لَا نُؤْمَرُ بِشَيْءٍ إِلَّا فَعَلْنَاهُ .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جِہَادِ فِی سَبِیْلِ اللہِ کا بے حد حریص اور (اسلحہ و سواری سے) لیس ہو، مگر اس کے اُمَرَاء (امیرِ لشکر) اسے ایسی بے شمار چیزوں کا حکم دیں جن کا وہ شمار نہ کر سکے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تمہیں کیا کہوں، سوائے اس کے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہمیں جس کام کا بھی حکم دیا جاتا تھا ہم اسے (بلا جھجھک) بجا لاتے تھے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب «اَلْمُسْنَدُ» ”المسند“ میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2139
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 2964، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 419، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 5134، وأخرجه مسند البزار برقم: 1671، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3188 / 1، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20809، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 35657، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 8774»