المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الصبر عَلَى تأديب الْإِمَامِ باب: امام (حاکمِ وقت) کی جانب سے دی جانے والی تادیب و تنبیہ پر صبر و استقامت اختیار کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ حَرِيصٍ عَلَى الْجِهَادِ مُؤْدِيًا ، يَعْزِمُ عَلَيْهِ أُمَرَاؤُهُ فِي أَشْيَاءَ لَا يُحْصِيهَا ؟ فَقَالَ : وَاللهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لَكَ إِلَّا أَنَّا كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّنَا لَا نُؤْمَرُ بِشَيْءٍ إِلَّا فَعَلْنَاهُ .سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا: ”اے اَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو جِہَادِ فِی سَبِیْلِ اللہِ کا بے حد حریص اور (اسلحہ و سواری سے) لیس ہو، مگر اس کے اُمَرَاء (امیرِ لشکر) اسے ایسی بے شمار چیزوں کا حکم دیں جن کا وہ شمار نہ کر سکے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ تمہیں کیا کہوں، سوائے اس کے کہ جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہمیں جس کام کا بھی حکم دیا جاتا تھا ہم اسے (بلا جھجھک) بجا لاتے تھے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی کتاب «اَلْمُسْنَدُ» ”المسند“ میں روایت کیا ہے۔