المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ عِظَمِ قَدْرِ الصَّلَاةِ باب: نماز کی عظمت کا بیان۔
حدیث نمبر: 213
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو الْعَلَاءِ ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، ثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَزْدِيَّ ، حَدَّثَهُ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَائِذٍ ، يَقُولُ : خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عُمَرُ إِنَّكَ لَا تُسْأَلُ عَنْ أَعْمَالِ النَّاسِ ، وَلَكِنْ تُسْأَلُونَ عَنِ الصَّلَاةِ " .ترجمہ
ابن عائذ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ انصار کے ایک شخص کے جنازے کے لیے تشریف لے گئے، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی جس میں یہ (کلمات) بھی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عمر! یقیناً تم سے لوگوں کے (عام) اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، بلکہ تم سب سے (بالخصوص) نماز کے متعلق بازپرس کی جائے گی“۔
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، تاہم ابن عائذ تابعی ہیں اس لیے یہ روایت مرسل ہے۔