❮
❯
حدیث نمبر: 212
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ الْمُخْتَارِ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا قَرَأَ أَوَّلَ اللَّيْلِ ثُمَّ سَرَقَ آخِرَهُ ؟
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَرَأَ أَوَّلَهُ حَجَزَهُ آخِرُهُ أَنْ يَسْرِقَ بِغَلَسٍ " .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جس نے رات کے ابتدائی حصے میں تلاوتِ قرآن کی اور پھر رات کے آخری پہر میں چوری کر لی؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب اس نے رات کے اول حصے میں تلاوت کی ہے، تو یہی عمل اسے رات کے آخری پہر کے اندھیرے میں چوری کرنے سے روک دے گا۔“
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی خرابی کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں، البتہ اس کا مفہوم دیگر صحیح نصوص سے مؤید ہے کہ نیک اعمال انسان کو برائیوں سے باز رکھتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 212
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 212، 3497»