المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ أجر الحاكم إِذَا اجتهد فِي الحق باب: حق کے معاملے میں اجتہاد کرنے والے حاکم کے اجر کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمْرُو ، اقْضِ بَيْنَهُمَا . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ كَانَ . قُلْتُ : عَلَى مَاذَا أَقْضِي ؟ قَالَ : عَلَى إِنْ أَصَبْتَ الْقَضَاءَ بَيْنَهُمَا فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ .
قُلْتُ : فَرَجٌ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثُ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ السِّيَاقِ ، وَفِيهِ : إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ .سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عَمْرُو بْنِ الْعَاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: دو فریق اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عَمْرُو! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ اس (فیصلہ کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ ایسا ہی ہو (تب بھی تم ہی فیصلہ کرو)۔“ میں نے عرض کیا: ”میں کس بنیاد پر فیصلہ کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس بنیاد پر کہ اگر تم نے ان کے درمیان درست فیصلہ کر دیا تو تمہارے لیے دس نیکیاں ہیں، اور اگر تم نے اِجْتِہَاد (پوری کوشش) کی لیکن خطا کر گئے تو تمہارے لیے ایک نیکی ہے۔“
میں کہتا ہوں: فَرَج بن فَضَالَہ ضعیف راوی ہے، اور یہ حدیث «الصَّحِیْحَیْن» میں سیدنا عَمْرُو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس کا سِیَاق (اندازِ بیان) مختلف ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جب (حاکم) اِجْتِہَاد کرے اور درست فیصلے تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“