❮
❯
حدیث نمبر: 2125
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ ، ثَنَا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ خَصْمَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَمْرُو ، اقْضِ بَيْنَهُمَا . قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ أَنْتَ أَوْلَى بِذَلِكَ . قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَإِنْ كَانَ . قُلْتُ : عَلَى مَاذَا أَقْضِي ؟ قَالَ : عَلَى إِنْ أَصَبْتَ الْقَضَاءَ بَيْنَهُمَا فَلَكَ عَشْرُ حَسَنَاتٍ ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ .
قُلْتُ : فَرَجٌ ضَعِيفٌ وَالْحَدِيثُ فِي الصَّحِيحَيْنِ عَنْ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَيْرِ السِّيَاقِ ، وَفِيهِ : إِذَا اجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عَمْرُو بْنِ الْعَاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: دو فریق اپنا جھگڑا لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے عَمْرُو! ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو۔“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! آپ ﷺ اس (فیصلہ کرنے) کے زیادہ حق دار ہیں۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگرچہ ایسا ہی ہو (تب بھی تم ہی فیصلہ کرو)۔“ میں نے عرض کیا: ”میں کس بنیاد پر فیصلہ کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس بنیاد پر کہ اگر تم نے ان کے درمیان درست فیصلہ کر دیا تو تمہارے لیے دس نیکیاں ہیں، اور اگر تم نے اِجْتِہَاد (پوری کوشش) کی لیکن خطا کر گئے تو تمہارے لیے ایک نیکی ہے۔“
میں کہتا ہوں: فَرَج بن فَضَالَہ ضعیف راوی ہے، اور یہ حدیث «الصَّحِیْحَیْن» میں سیدنا عَمْرُو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے لیکن اس کا سِیَاق (اندازِ بیان) مختلف ہے، اور اس میں یہ الفاظ ہیں: ”جب (حاکم) اِجْتِہَاد کرے اور درست فیصلے تک پہنچ جائے تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ساقط لضعف فرج بن فضالة واضطرابه في الحديث، فرواه مرّة من مسند عمرو بن العاص، ومرّة من مسند ابنه عبد الله بن عمرو، وجعله في أخرى من مسند عقبة بن عامر، وهو مخالف لرواية الثقات كما هو مبيّن في تخريجه. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 17369، وأخرجه فتح الباري برقم: 6919، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 7087، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 3214، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 7002، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4896/3»