❮
❯
حدیث نمبر: 2119
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، ثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّا كُنَّا نَعْرِفُكُمْ إِذْ بَيْنَ أَظْهُرِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَفِيهِ : وَإِنِّي لَا أُرْسِلُ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ . فَذَكَرَهُ ، فَوَثَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَرَأَيْتَكَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانَ عَلَى رَعِيَّةٍ فَأَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ إِنَّكَ لَتَقُصُّهُ مِنْهُ ؟ قَالَ : إِي وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ ، وَكَيْفَ لَا أَقُصُّ مِنْهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِصُّ مِنْ نَفْسِهِ ؟ أَلَا لَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ فَتُذِلُّوهُمْ ، وَلَا تَمْنَعُوهُمْ حُقُوقَهُمْ فَتُكَفِّرُونَهُمْ ، وَلَا تُجَمِّرُوهُمْ فَتَفْتِنُوهُمْ وَلَا تُنْزِلُوهُمُ الْغِيَاضَ فَتُضَيِّعُوهُمْ .
2119 \ 2 - قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، بِطُولِهِ .
ترجمہ

سیدنا ابو فراس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! جب رَسُولُ اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے تو ہم تمہارے حالات سے واقف رہتے تھے...“ (پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی جس میں یہ الفاظ بھی تھے کہ:) ”اور میں اپنے عُمَّال (گورنروں) کو اس لیے نہیں بھیجتا کہ وہ تمہاری کھالوں پر ماریں (یعنی تمہیں جسمانی سزا دیں)۔“ (یہ سن کر) سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فوراً کھڑے ہوئے اور عرض کی: ”اے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کسی رعیت پر حاکم مقرر ہو اور وہ اپنی رعیت میں سے کسی کو تادیبی سزا دے، تو کیا آپ اس حاکم سے بدلہ (قِصَاص) دلوائیں گے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں! اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں عمر کی جان ہے! میں اس سے کیوں بدلہ نہ لوں جبکہ میں نے خود رَسُولُ اللہ ﷺ کو اپنی ذاتِ گرامی سے «الْقِصَاص» ”بدلہ“ دیتے ہوئے دیکھا ہے؟ خبردار! تم مسلمانوں کو مار پیٹ نہ کرنا ورنہ تم انہیں ذلیل کر دو گے، ان کے حقوق غصب نہ کرنا ورنہ تم انہیں کفر (یا ناشکری) پر اکساؤ گے، انہیں محاذِ جنگ پر (گھروں سے دور) طویل عرصے تک محبوس نہ رکھنا ورنہ تم انہیں فتنے میں ڈال دو گے، اور انہیں پُرخطر مقامات پر نہ ٹھہرانا ورنہ تم انہیں ہلاکت میں ڈال دو گے۔“
امام ابویعلیٰ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، ان سے مہدی بن میمون نے اور ان سے سعید جریری نے یہ مفصل روایت بیان کی۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2119
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :حديث الباب إسناده حسن، وقد تقدّم ذكر تحسين ابن المديني له في التخريج، وقال أيضًا كما في مسند الفاروق (2/ 544): "لا نعلم في إسناده شيئًا يطعن فيه، وأبو فراس رجل معروف من أسلم روى عنه أبو نضرة وأبو عمران الجوني". »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 2498، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4777، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4537، وأخرجه مسند أحمد برقم: 288، وأخرجه مسند البزار برقم: 285، 320، وأخرجه المستدرك على الصحيحين برقم: 8405، وأخرجه الأحاديث المختارة برقم: 116، وأخرجه شرح مشكل الآثار برقم: 3526، وأخرجه الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف برقم: 6749، 9568، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 4238/1»