❮
❯
حدیث نمبر: 2118
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْمُرُ عُمَّالَهُ فَيُوَافُونَهُ الْمَوْسِمَ ، فَيَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَمْ أَسْتَعْمِلْ عُمَّالَكُمْ - أَوْ قَالَ : عُمَّالِي - لِيُصِيبُوا مِنْ أَبْشَارِكُمْ وَلَا مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَلَا مِنْ أَعْرَاضِكُمْ ، وَلَكِنِّي إِنَّمَا اسْتَعْمَلْتُهُمْ عَلَيْكُمْ لِيَحْجِزُوا بَيْنَكُمْ ، وَلِيَقْسِمُوا فِيكُمْ ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلِمَةٌ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَلْيَقُمْ ، فَمَا قَامَ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ غَيْرُ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، فَقَالَ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، عَامِلُكَ ضَرَبَنِي مِائَةَ سَوْطٍ . قَالَ : قُمْ فَاسْتَقِدْ مِنْهُ . فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّكَ إِنْ تَفْتَحْ هَذَا عَلَى عُمَّالِكَ يَكُونُ سُنَّةً يُسْتَنُّ بِهَا بَعْدَكَ . فَقَالَ : أَنَا لَا أُقِيدُ مِنْهُ ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقِيدُ مِنْ نَفْسِهِ ؟ قَالَ عَمْرٌو : دَعْنَا فَلْنُرْضِهِ ، قَالَ : فَأَرْضُوهُ ، فَافْتَدَوْا مِنْهُ بِمِائَتَيْ دِينَارٍ ، كُلُّ سَوْطٍ بِدِينَارَيْنِ .
2118 \ 2 - أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَرَ ، نَحْوَهُ .
قُلْتُ : أَخْرَجَ أَحْمَدُ مَعْنَاهُ فِي حَدِيثٍ وَلَيْسَ فِيهِ مَا فِي آخِرِهِ .
ترجمہ

عطاء رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سَیِّدُنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے عُمَّال (حکام) کو حکم دیتے تو وہ حج کے موسم میں ان کے پاس جمع ہوتے، پھر آپؓ (لوگوں کو مخاطب کر کے) فرماتے: ”اے لوگو! میں نے تمہارے عُمَّال کو — یا فرمایا: اپنے عُمَّال کو — اس لیے مقرر نہیں کیا کہ وہ تمہارے اجسام پر ضرب لگائیں، نہ اس لیے کہ تمہارے اموال چھینیں اور نہ تمہاری آبروؤں پر حملہ کریں، بلکہ میں نے انہیں تم پر اس لیے مامور کیا ہے تاکہ وہ تمہارے درمیان (حقوق کا) تحفظ کریں اور تمہارے درمیان (اموال کی منصفانہ) تقسیم کریں۔ پس جس کسی کی ان میں سے کسی کے پاس کوئی شکایت (مظلمہ) ہو تو وہ کھڑا ہو جائے۔“ اس دن سوائے ایک شخص کے کوئی دوسرا کھڑا نہ ہوا، اس نے عرض کی: ”اے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ! آپ کے فلاں گورنر نے مجھے سو کوڑے مارے ہیں۔“ آپؓ نے فرمایا: ”اٹھو اور اس سے قصاص (بدلہ) لو۔“ اس پر سَیِّدُنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے عرض کی: ”اے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ! اگر آپ نے اپنے عُمَّال کے خلاف اس کا دروازہ کھول دیا تو یہ آپ کے بعد ایک ایسا طریقہ بن جائے گا جس کی پیروی کی جائے گی۔“ آپؓ نے فرمایا: ”کیا میں اس سے قصاص نہ لوں جبکہ میں نے رَسُوْلُ اللہِ ﷺ کو خود اپنی ذاتِ گرامی سے قصاص دیتے ہوئے دیکھا ہے؟“ سَیِّدُنَا عَمْرُوؓ نے عرض کی: ”ہمیں موقع دیں کہ ہم اسے راضی کر لیں۔“ آپؓ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے، اسے راضی کر لو۔“ چنانچہ انہوں نے دو سو دِیْنَار (سونے کے سکے) دے کر اسے راضی کر لیا، اس طرح ہر کوڑے کے بدلے دو دِیْنَار ادا کیے گئے۔
جریر نے لیث سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے سَیِّدُنَا عُمَرُ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ سے اسی کی مثل روایت نقل کی ہے۔
میں (امام بوصیری) کہتا ہوں کہ امام احمدؒ نے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں وہ تفصیل نہیں ہے جو اس روایت کے آخر میں (بطور فدیہ رقم کی ادائیگی کے متعلق) ذکر ہوئی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الخلافة والإمارة / حدیث: 2118
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، منقطع
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناد إسحاق الأول رجاله ثقات، لكنه منقطع، لان عطاء بن أبي رباح لم يدرك عمر بن الخطّاب رضي الله عنه، ولا سمع منه كما في جامع التحصيل (ص 237). »
«أخرجه المنتقى لابن الجارود برقم: 911، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 116، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8450، وأخرجه سنن النسائي برقم: 4791 / 1، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 6953، وأخرجه سنن أبي داود برقم: 4537، وأخرجه سنن سعيد بن منصور برقم: 134، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 16116، وأخرجه مسند أحمد برقم: 292، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 54، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 196، وأخرجه مسند البزار برقم: 285، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2118 / 2، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 18035، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 33592، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 3528»