المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كيفية البيعة فِي الإسلام باب: اسلام میں بیعت کرنے کے طریقے اور اس کی کیفیت کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَقَدْ مَاتَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . فَقُلْتُ لِعُمَرَ : ارْفَعْ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى مَا بَايَعْتُ عَلَيْهِ صَاحِبَكَ قَبْلَكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ مَا اسْتَطَعْتُ .
2107 \ 2 - وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، نَحْوَهُ . وَفِي آخِرِهِ يَعْنِي : النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وفات پا چکے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے جا چکے تھے۔ پس میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی: اپنا ہاتھ بڑھائیے تاکہ میں آپ کی ان ہی شرائط پر بیعت کروں جن پر میں نے آپ سے پہلے آپ کے رفیق سے بیعت کی تھی، یعنی اپنی استطاعت کے مطابق «السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ» ”حکم سننے اور اطاعت کرنے“ پر۔“
امام طیالسی نے بھی حماد بن سلمہ کے واسطے سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے، جس کے آخر میں (صاحبک سے مراد کی وضاحت میں) یہ درج ہے کہ: ”یعنی نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ“۔