المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الخلافة والإمارة— خلافت اور امارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ كيفية البيعة فِي الإسلام باب: اسلام میں بیعت کرنے کے طریقے اور اس کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، أَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ ، عَنْ أَبِي الْعَفِيفِ ، قَالَ : شَهِدْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يُبَايِعُ النَّاسَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجْتَمِعُ إِلَيْهِ الْعِصَابَةُ فَيَقُولُ لَهُمْ : بَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلهِ ، وَلِكِتَابِهِ ثُمَّ لِلْأَمِيرِ . فَتَعَلَّقْتُ بِسَوْطِي ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ مُحْتَلِمٌ أَوْ نَحْوُهُ ، فَلَمَّا خَلَا مَنْ عِنْدَهُ أَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : أُبَايِعُكَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ لِلهِ وَلِكِتَابِهِ ، وَلِلْأَمِيرِ . قَالَ : فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ .سیدنا اَبُوالْعَفِیْفؓ سے روایت ہے کہ میں اس وقت موجود تھا جب رسول اللہ ﷺ کی وفاتِ حسرت آیات کے بعد سیدنا اَبُوبَکْرٍ الصِّدِّیْقؓ لوگوں سے بیعت لے رہے تھے، لوگوں کی جماعتیں ان کے پاس اکٹھی ہوتیں تو وہ ان سے فرماتے: ”مجھ سے اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کے احکام کی تعمیل، پھر امیر کی «السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ» ”سمع و اطاعت (فرماں برداری)“ پر بیعت کرو۔“ ابُوالْعَفِیْفؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنا کوڑا تھام رکھا تھا اور میں ان دنوں نو عمر بالغ تھا یا اس کے قریب تھا، چنانچہ جب وہاں سے لوگ چلے گئے اور وہ تنہا ہوئے تو میں ان کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی: ”میں آپ سے اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کی فرماں برداری اور امیر کی سمع و اطاعت پر بیعت کرتا ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ (میری یہ بات سن کر) انہوں نے مجھے سر سے پاؤں تک (بغور) دیکھا۔
اسے امام حارث بن محمد بن ابی اسامہ نے اپنی ”مُسْنَدُ الْحَارِثِ“ میں روایت کیا ہے۔